بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر کا دورہ ایران ایسے وقت میں ہؤا جب اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلیٰ حکام نے ایک بار پھر مذاکرات، جوہری صلاحیتوں کے تحفظ اور فوجی دھمکیوں کے بے اثر ہونے کے بارے میں اپنے موقف پر زور دیا ہے؛ ایسا موقف جس سے عیاں ہوتا ہے کہ ایران کی نظر میں سفارت کاری کا راستہ امریکہ کی جانب سے عملی ذمہ داریوں کی تعمیل اور اعتماد سازی سے گذرتا ہے، نہ کہ دباؤ اور دھونس دھمکی سے۔

دوسری اور آخری قسط
امریکہ سے مذاکرات کے لیے ایران کی سات شرطیں
1۔ امریکہ کے حملوں اور دھمکیوں کا خاتمہ،
2۔ اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان سے انخلاء،
3۔ امریکہ میں ایران کے مسدود 24 ارب ڈالر کے اثاثوں کی رہائی،
4۔ ایران کی جوہری اور میزائل صلاحیت میں عدم مداخلت،
5۔ ایران کی سمندری ناکہ بندی کا خاتمہ،
6۔ امریکی فوجیوں کا خطے سے انخلاء،
7۔ جنگی معاوضے کی ادائیگی۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان، بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے بھی ان شرطوں کے کچھ حصوں کی وضاحت کرتے ہوئے زور دیا تھا کہ امریکہ کو اس مفاہمت نامے کا پابند ہونا چاہئے جس پر خود اس نے دستخط کئے ہیں۔

اس بنیاد پر، تہران کی نظر میں، واشنگٹن کی ذمہ داریوں کی تکمیل اور رویئے میں تبدیلی کے بغیر مذاکرات کی درخواست اعتماد کی بحالی کے لئے کافی نہیں ہے۔
ایران دباؤ اور دھمکی میں پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہیں رکھتا
ایرانی حکام کے ساتھ عاصم منیر کی سیاسی مشاورت ایسے وقت میں انجام پائی جب اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلان کردہ موقف مذاکرات کے بارے میں اب بھی شرطوں کی تکمیل اور امریکہ کی طرف سے اعتماد سازی کی ضرورت پر قائم ہیں۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان تمام موقفوں کا مجموعہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران دباؤ اور دھونس دھمکیوں کے سائے میں اپنے اسٹراٹیجک موقف اور قومی مفادات سے پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
امریکہ کو بھجوائے گئے ایرانی پیغام تین بنیادی نکات پر مشتمل ہے: 'جوہری مواد ملک کے اندر رکھنا'، 'سات شرطوں پر زور' اور 'دفاع کے لئے مسلح افواج کی مکمل تیاری۔

صدر، اسپیکر اور اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری کی جانب سے بیک وقت ایران کی شرطوں کی تکمیل کی ضرورت پر زور دینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاملے میں ایران کی اعلان کردہ اصل مطالبے کے بارے میں ان کے موقف میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور ایران کسی بھی بات چیت سے پہلے امریکی فریق سے عملی اقدام کا مطالبہ کرتا ہے۔
اس موقف کو مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف، فلائٹ میجر جنرل ڈاکٹر علی عبداللٰہی، کے اس بیان کے ساتھ ملا کھ دیکھنا چاہئے۔
انھوں نے کہا: ہم میزائل اور ڈرون پروڈکشن لائنز کی توسیع پر کام کر رہے ہیں اور کسی بھی جارحیت کا پہلے سے کہيں زیادہ بھاری اور پشیمان کن جواب دینے کے لئے تیار ہیں۔
میجر جنرل عبداللٰہی نے واضح کیا ہے کہ اگر دشمن اپنی غلطی دہرانے کی جرات کرے تو اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج جدید سازوسامان اور غیر متناسب جنگی روشوں سے، زیادہ تباہ کن اور کہیں زیادہ طاقتور جواب دیں گی۔
ان تمام باتوں کے مجموعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نہ دشمن کی دھمکیوں سے ڈرتا ہے نہ مذاکرات سے؛ مگر ان لوگوں سے مذاکرات ـ جنہوں نے بار بار بدعہدی کی اور اپنے عہد کے وفادار نہیں رہے، ـ کچھ پیشگی شرطوں سے مشروط ہیں جو ایران نے واضح اور دوٹوک انداز سے بیان کی ہیں اور اب امریکہ کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ان شرطوں پر عمل کرنا چاہتا ہے یا ایک اور شکست کا مزہ چکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: کامران شیرازی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ